میری اردو خصوصی سلسلہ مضامین

spot_imgspot_img

حالیہ اشاعت

ماحولیاتی آلودگی کے برے اثرات!!

کدھر ہیں ماحولیاتی آلودگی اور انڈسٹریز اینڈ کنزیومرز کے محکمے جو یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں آبادی بیشک تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اپنا گھر ہر کسی کی خواہش اور ضرورت ہے رہائشی منصوبوں کی مخالفت نہیں کرتا اور ہائی رائزنگ عمارتوں کی تعمیر کو ضروری سمجھتا ہوں تاہم ہائی رائزنگ عمارتوں کی تعمیر اور اس سے جڑے ہوئے ضروری لوازمات اور معیار پر سمجھوتہ نہیں ہونا چاہئے اور باقاعدگی سے ان ہائی رائزنگ عمارتوں کی تعمیر کے وقت نگرانی کی جانی چاہئے

متبادل پر سوچیں!! سدھیر احمد آفریدی کی تحریر

یہ بلکل سچی بات ہے کہ کوئی بھی مشکل...

بیوٹی پارلر میں کام کرنیوالی لڑکی جس کی پرورش خالہ نے کی اور زندگی بھائی لے لی

ذرائع کے مطابق مقتولہ کو بچپن میں اس کی خالہ نے گود لے لیا تھا اور بالغ ہونے تک وہ اپنی خالہ کے پاس رہتی تھی پھر وہ ایک ڈاکٹر کے ساتھ بطور نرس کام کرتی رہی اس دوران وہ بیرون ملک چلی گئی جہاں سے دو ہفتے قبل واپس آئی اور اپنے منہ بولے ماموں غلام مصطفیٰ ولد روشن خان سکنہ سجی کوٹ روڈ قلندرآباد کی وساطت سے گوجری چوک میں فلیٹ کرائے پر لے کر رہنے لگی ۔

فاٹا انضمام کے معاملے پر مشران کی سپریم کورٹ سے مداخلت کی اپیل

ضلع خیبر سے جبران شنواری بالجبر انضمام اور پولیس نظام...
spot_img

برصغیر میں ہزار سالہ مسلم تہذیب کی امین اردو ہمارے روشن مستقبل کی ضمانت

زبان کسی بھی ملک و قوم کی پہچان ہوتی ہےاوراسکی شان ہوتی ہے۔زبان کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی کہ انسان...

اردو کو قومی زبان قرار دینا قائد اعظم کی اردو سے محبت کی دلیل ہے

دیکھا تھا کبھی میں نے بھی خوشیوں کا زمانہ اپنے ہی وطن میں ہوں مگر آج اکیلی

اردو،دنیا کی ہر زبان کو اپنے اندرجذب کرنے کی صلاحیت رکھنے والی زبان

یہی وجہ ہے کہ اردو کے مزاج میں لچک اور رنگارنگی ہے لیکن وہ کسی زبان کی مقلد نہیں ہے، بلکہ صورت اور سیرت دونوں کے اعتبار سے اپنی ایک الگ اور مستقل زبان کی حیثیت رکھتی ہے۔ اردو مخلوط زبان ہونے کے باوجود اپنی رعنائی، صناعی اور افادیت کے لحاظ سے اپنی جداگانہ حیثیت رکھتی ہے۔ اس نے اپنی ساخت، مزاج اور سیرت کو دوسری زبانوں کے تابع نہیں کیا۔ ان ظاہری ومعنوی خصوصیات اور محاسن کے اعتبار سے یہ دنیا کی اہم زبانوں میں شمار کی جاتی ہے۔

زبان قوم کے لیئے اتنی ہی اہم ہے جتنی زندہ جسم کے لیئے روح

21 مارچ 1948 کو ڈھاکہ میں خطاب کرتے ہوئے آپؒ نے فرمایا "مجھے علم ہے کہ علاقائی زبانیں بہت اہمیت کی حامل ہیں لیکن سب سے اہم یہ ہے کہ ریاستی زبان ان تمام علاقے کے لوگوں میں امن و آشتی کی فضا برقرار رکھنے میں مددگار ہوتی ہے اور اس مملک خداداد پاکستان کی قومی زبان اردو ہے ، اور یہی زبان اس ملک کے باشندوں کی حقیقی ترجمانی کرتی ہے" ۔آپؒ کو اس بات کا بخوبی علم تھا کہ اس نئی ریاست کو دنیا کے نقشے پر پنجے گاڑھنے کے لئیے اپنی شناخت مضبوط کرنا ہوگی اسی لئیے آپ نے فرمایا" صوبائی دفاتر میں جو مرضی زبان بولی جائے لیکن ان تمام معاملات میں جب ایک صوبے کو دوسرے صوبے کی معاونت درکار ہوگی تو صرف ایک ہی زبان ہوگی اور وہ صرف اور صرف اردو ہوگی"۔

مغربی تہذیب کی یلغار سے بچنے کے لیئے اردو کا نفاذ‌ناگزیر

ہر قوم اپنی الگ شناخت رکھتی ہے۔ یہ انفرادیت تہذیب و ثقافت کی انفرادیت ہوتی ہے جو اپنے داخل میں روحِ قوم...