دیگر پوسٹس

تازہ ترین

ماحولیاتی آلودگی کے برے اثرات!!

کدھر ہیں ماحولیاتی آلودگی اور انڈسٹریز اینڈ کنزیومرز کے محکمے جو یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں آبادی بیشک تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اپنا گھر ہر کسی کی خواہش اور ضرورت ہے رہائشی منصوبوں کی مخالفت نہیں کرتا اور ہائی رائزنگ عمارتوں کی تعمیر کو ضروری سمجھتا ہوں تاہم ہائی رائزنگ عمارتوں کی تعمیر اور اس سے جڑے ہوئے ضروری لوازمات اور معیار پر سمجھوتہ نہیں ہونا چاہئے اور باقاعدگی سے ان ہائی رائزنگ عمارتوں کی تعمیر کے وقت نگرانی کی جانی چاہئے

متبادل پر سوچیں!! سدھیر احمد آفریدی کی تحریر

یہ بلکل سچی بات ہے کہ کوئی بھی مشکل...

بیوٹی پارلر میں کام کرنیوالی لڑکی جس کی پرورش خالہ نے کی اور زندگی بھائی لے لی

ذرائع کے مطابق مقتولہ کو بچپن میں اس کی خالہ نے گود لے لیا تھا اور بالغ ہونے تک وہ اپنی خالہ کے پاس رہتی تھی پھر وہ ایک ڈاکٹر کے ساتھ بطور نرس کام کرتی رہی اس دوران وہ بیرون ملک چلی گئی جہاں سے دو ہفتے قبل واپس آئی اور اپنے منہ بولے ماموں غلام مصطفیٰ ولد روشن خان سکنہ سجی کوٹ روڈ قلندرآباد کی وساطت سے گوجری چوک میں فلیٹ کرائے پر لے کر رہنے لگی ۔

فاٹا انضمام کے معاملے پر مشران کی سپریم کورٹ سے مداخلت کی اپیل

ضلع خیبر سے جبران شنواری بالجبر انضمام اور پولیس نظام...

8مٸی1945،جب فرانسیسی فوج کے ہاتھوں45 ہزار الجیرین شہریوں کا قتل عام ہوا

آزادی ڈیسک

مٸی 1945 ،جب فرانسیسی فوجوں نے ہزاروں نہتے الجیرین مسلمانوں کو خاک و خون میں نہلا دیا
8 مٸی 1945 کا دن الجیریا کی تاریخ کا ایک خونی دن ہے جب غاصب فرانسیسی فوج نے اپنے حق کیلیۓ آواز اٹھانے کی پاداش میں ہزاروں مردو خواتین اور بچوں کو خاک و خون میں نہلا دیا
واقعہ کب پیش آیا ؟
8 مٸی 1945 کو فرانس حکومت نے الجیریا کے شہریوں کو فرانس اور اتحادی افواج کی ہٹلر اور محوری طاقتوں کی شکست کی خوشی منانے کا حکم دیا
اس وقت الجیریا میں فرانسیسی مظالم پر فرانس مخالف جذبات جڑیں پکڑ چکے تھے ۔اس واقعہ سے قبل شمالی الجیریا کے ستیف نامی شہر اور دیگر ملحقہ علاقوں میں فرانس مخالف مظاہرے بھی ہو چکے تھے جس میں ہزاروں لوگ شریک ہوۓ

افغانستان لڑکیوں کے سکول میں بم دھماکہ 30 افراد جاں بحق درجنوں زخمی

مالدیپ کے سابق صدرمحمد نشید بم دھماکے میں شدید زخمی
یہ مظاہرین آزادی اور فرنچ نوآبادی سے زیادہ حقوق کا مطالبہ کر رہے تھے ۔
تاہم اس احتجاج میں دیگر تنظیمیں بھی شامل ہو گٸیں ۔اس دوران مسلم سکاٶٹس کے رکن 14 سالہ نوجوان سعل بوزید نے الجیریا کا پرچم بھی لہرا دیا ۔

جس پر فرانسیسی فوجیوں نے جنرل ڈوول کے حکم پر مظاہرین پر فاٸرنگ شروع کردی ۔جس میں بوزید سمیت دیگر ہزاروں مظاہرین شہید ہوگٸے۔
اس واقعہ نے جلتی پر تیل کاکام کیا اور احتجاج اور تشدد کا داٸرہ ملک کے دیگر حصوں تک پھیل گیا ۔فرنچ کالونیل حکومت نے مظاہرین اور احتجاج کو دبانے کیلیے طاقت کا بہیمانہ استعمال شروع کردیا ۔مشرقی شہروں پر فضاٸی اور زمینی حملے شروع کردیۓ گٸے ۔جن میں ستہف اور گوٸیلم کے شہر سرفہرست تھے
اس وقت فرانس میں عبوری حکومت کے سربراہ چارلس ڈیگال نے شہریوں اور کسانوں کے قتل عام کا حکم دیدیا
قتل و غارت کا یہ بازار 22 مٸی تک گرم رہا جس میں 45 ہزار الجیرین مروخواتین اور بچے و بوڑھے قتل کر دیٸے گٸے ۔
ہزاروں لاشوں کی تدفین ممکن نہ رہی تو لاشیں کنوٶں اور کھاٸیوں میں پھینک دی گٸیں
ستیف ،گوٸیلم اور خیراتہ کے شہر سب سے زیادہ متاثر ہوۓ
لیکن اس واقعہ کے بعد الجیریا پر فرانس کے قبضے کی الٹی گنتی شروع ہوگٸی اور پورے ملک میں فرانس مخالف جذبات اپنے عروج پر پہنچ گٸے
اس واقعہ کے نو سال بعد 1954 میں الجیریا نے فرانس سے آزادی کی جنگ کا باقاعدہ آغاز کردیا
یہ جنگ 1962 تک جاری رہی لیکن اس دوران 15 لاکھ سے زیادہ الجیرین شہری اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے تھے ۔اور پھر 1962 میں الجیریا کو فرانس کے پنجہ استبداد سے نجات مل گٸی
الجیریا میں ہر سال 8 مٸی کا دن قومی یوم سوگ کے طور پر منایا جاتا ہے ۔فروی 2005 میں الجیریا میں فرانس کے سفیر ہوبرٹ کولن ڈی ورڈیر نے ستیف قتل عام پر سرکاری طور پر معافی مانگتے ہوۓ کہا یہ ناقابل توجیہہ سانحہ تھا
الجیریاٸی قیادت ستیف قتل عام کو الجیریا میں نسل کشی کی ابتدا قرار دیا تاہم فرانس اس تعریف کو مسترد کرچکا ہے