دیگر پوسٹس

تازہ ترین

ماحولیاتی آلودگی کے برے اثرات!!

کدھر ہیں ماحولیاتی آلودگی اور انڈسٹریز اینڈ کنزیومرز کے محکمے جو یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں آبادی بیشک تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اپنا گھر ہر کسی کی خواہش اور ضرورت ہے رہائشی منصوبوں کی مخالفت نہیں کرتا اور ہائی رائزنگ عمارتوں کی تعمیر کو ضروری سمجھتا ہوں تاہم ہائی رائزنگ عمارتوں کی تعمیر اور اس سے جڑے ہوئے ضروری لوازمات اور معیار پر سمجھوتہ نہیں ہونا چاہئے اور باقاعدگی سے ان ہائی رائزنگ عمارتوں کی تعمیر کے وقت نگرانی کی جانی چاہئے

متبادل پر سوچیں!! سدھیر احمد آفریدی کی تحریر

یہ بلکل سچی بات ہے کہ کوئی بھی مشکل...

بیوٹی پارلر میں کام کرنیوالی لڑکی جس کی پرورش خالہ نے کی اور زندگی بھائی لے لی

ذرائع کے مطابق مقتولہ کو بچپن میں اس کی خالہ نے گود لے لیا تھا اور بالغ ہونے تک وہ اپنی خالہ کے پاس رہتی تھی پھر وہ ایک ڈاکٹر کے ساتھ بطور نرس کام کرتی رہی اس دوران وہ بیرون ملک چلی گئی جہاں سے دو ہفتے قبل واپس آئی اور اپنے منہ بولے ماموں غلام مصطفیٰ ولد روشن خان سکنہ سجی کوٹ روڈ قلندرآباد کی وساطت سے گوجری چوک میں فلیٹ کرائے پر لے کر رہنے لگی ۔

فاٹا انضمام کے معاملے پر مشران کی سپریم کورٹ سے مداخلت کی اپیل

ضلع خیبر سے جبران شنواری بالجبر انضمام اور پولیس نظام...

کیلاش تہذیب کو زندہ رکھنے والے رحمت ولی کون ہیں؟

سیف اللہ تنولی
چترال کا ہنر مند جو لکڑی کے ٹکڑوں کو زندگی کا رنگ دینے کا ہنر رکھتا ہے.

Dc lower chitral office

ضلع چترال کی خوبصورت وادی بمبور کے علاقے کالاش گام سے تعلق رکھنے دونوں ٹانگوں سے معذور رحمت ولی سکول کی تعلیم سے محروم رہے لیکن اپنے ہنر کو انہوں نے اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا ذریعہ بنا لیا .وہ کسی بھی چیز کو دیکھ کر اسکی ہو بہو نقل بنانے کا قدرتی ہنر رکھتے ہیں۔ انہوں یہ فن باقاعدہ طور پر کسی سے سیکھا نہیں بلکہ چھوٹی عمر سے ہی لکڑی سے مختلف چیزیں بنانے کی کوشش کرتے رہے پھر آہستہ آہستہ انہیں لکڑی کو مجسموں اور دیگر اشیاء کے قالب میں ڈھالنے پر دسترس حاصل ہو گٸی ۔
ن

انہوں نے اے سی پی کو بتایا کہ اس وقت ان کی عمر تقریبا چالیس سال ہے وہ اپنی ٹانگوں کی معذوری کی وجہ سے سکول نہیں پڑھ سکے۔ گھر پر بیٹھے اکتا جاتا تو لکڑی کے ٹکڑوں سے کھیلنا شروع کر دیتا یا ان سے مختلف چیزیں مثلا تلوار کلہاڑا یا اس طرح کی دیگر اشیاء بناتا رہتا ۔گھر والے بھی میرے کام میں دلچسپی دیکھتے ہوۓ میری حوصلہ افزاٸی کرتے رہے جس کے نتیجے میں میرے کام میں دن بدن نکھار آتا گیا ۔پھر میرے والد نے میرا کام اور دلچسپی دیکھتے ہوٸے گھر کے ایک کمرے میں ہی میرے لیے ایک ورکشاپ بنا دی جس میں میں اطمینان کے ساتھ اپنا کام کرتا رہتا۔اور جب لوگوں نے خاص طور پر باہر سے آنے والے سیاح میرے ہاتھ کی بنی ہوٸی چیزیں دیکھتے تو انہیں بہت پسند آتیں اور وہ اکثر اپنی مرضی سے بہت مناسب قیمت پر یہ اشیاء خرید لیتے۔

رحمت ولی کیمطابق ایک تصویر یا مجسمہ پر اس کی نوعیت کے لحاظ سے وقت لگتا ہے جو کم از کم پندرہ دن یا کسی پر مہینہ بھی لگ سکتا ہے ۔اسی طرح کام کے لحاظ سے ان کی قیمتیں بھی مختلف ہوتی ہیں ۔
ان کے بقول وہ اپنے ہنر کے زریعے اپنی کیلاش تہذیب کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں اور اسے دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں اور جب لوگ میرے کام کی تعریف کرتے ہیں یا میری حوصلہ افزاٸی کرتے ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ میں اپنے مقصد میں کامیاب ہو گیا ہوں۔