دیگر پوسٹس

تازہ ترین

ماحولیاتی آلودگی کے برے اثرات!!

کدھر ہیں ماحولیاتی آلودگی اور انڈسٹریز اینڈ کنزیومرز کے محکمے جو یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں آبادی بیشک تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اپنا گھر ہر کسی کی خواہش اور ضرورت ہے رہائشی منصوبوں کی مخالفت نہیں کرتا اور ہائی رائزنگ عمارتوں کی تعمیر کو ضروری سمجھتا ہوں تاہم ہائی رائزنگ عمارتوں کی تعمیر اور اس سے جڑے ہوئے ضروری لوازمات اور معیار پر سمجھوتہ نہیں ہونا چاہئے اور باقاعدگی سے ان ہائی رائزنگ عمارتوں کی تعمیر کے وقت نگرانی کی جانی چاہئے

متبادل پر سوچیں!! سدھیر احمد آفریدی کی تحریر

یہ بلکل سچی بات ہے کہ کوئی بھی مشکل...

بیوٹی پارلر میں کام کرنیوالی لڑکی جس کی پرورش خالہ نے کی اور زندگی بھائی لے لی

ذرائع کے مطابق مقتولہ کو بچپن میں اس کی خالہ نے گود لے لیا تھا اور بالغ ہونے تک وہ اپنی خالہ کے پاس رہتی تھی پھر وہ ایک ڈاکٹر کے ساتھ بطور نرس کام کرتی رہی اس دوران وہ بیرون ملک چلی گئی جہاں سے دو ہفتے قبل واپس آئی اور اپنے منہ بولے ماموں غلام مصطفیٰ ولد روشن خان سکنہ سجی کوٹ روڈ قلندرآباد کی وساطت سے گوجری چوک میں فلیٹ کرائے پر لے کر رہنے لگی ۔

فاٹا انضمام کے معاملے پر مشران کی سپریم کورٹ سے مداخلت کی اپیل

ضلع خیبر سے جبران شنواری بالجبر انضمام اور پولیس نظام...

کراچی کا ڈیلیوری بوائے غربت سے لڑتے ہوئے زندگی ہارگیا

فہیم شیخ

کراچی


دو روز قبل کراچی کے علاقے کلفٹن تین تلوار کے قریب ایک بلڈنگ میں لفٹ حادثہ میں جاں بحق ہونے والے نوجوان نوید سعید کے حوالے سے معلومات سامنے آئی ہیں

جن کے مطابق درزی کا کام کرنے والے نوید سعید کلفٹن تین تلوار کے قریب ایک عمارت میں کھانے پینے کا سامان پہنچانے گئے

جہاں ڈیلیوری لینے والی خاتون کے پاس پانچ ہزار روپے کا نوٹ تھا اور کھلے پیسے نہ تھے ،جس پر ان خاتون نے نوید سعید سے کہا کہ وہ اپنا موبائل فون یہیں چھوڑ دے اور کھلے پیسے لیکر آجائے

تاہم نوید سعید جب کھلے پیسے لیکر واپس عمارت میں گئے تو لفٹ میں پھنسنے کے نتیجے میں ان کی موت واقع ہوگئی ۔

اس وقت ان کے پاس موبائل فون موجود نہ تھا جس سے وہ کسی کے ساتھ رابطہ کرسکتے یا اپنے ساتھ پیش آنے والی مصیبت سے کسی کو بروقت آگاہ کر پاتے


پاکستان نے کورونا ویکسین کی ساڑھے 3 کروڑ خوراکیں حاصل کرلیں

10 رمضان المبارک ،سندھ کے دروازے پر اسلام کی دستک


وہ اپنے چچا اور استاد کے ساتھ درزی کی دکان پر کام کرتے تھے ،لیکن جب وہ کئی گھنٹے بعد بھی واپس نہ آیا تو انہیں تشویش ہوئی اور انہوں نے اس کے موبائل پر رابطہ کیا ،دوسری طرف سے فون اسی خاتون نے اٹھایا جس نے نوید کا فون اپنے پاس بطور ضمانت رکھا ہوا تھا

خاتون نے ان کے چچا کو بتایا کہ لڑکے کا موبائل اس کے پاس ہے ،جسے اس نے کھلے پیسے لانے بھیجا تھا ،لیکن لگتا ہے کہ آپ کے لڑکے کی نیت میں فتور آگیا ہے وہ کئی گھنٹے گزرنے کے بعد بھی نہیں لوٹا

جاں بحق ہونے والے نوجوان نوید کے چاچا عبدالمالک نے بتایا کہ آپ اپنے پانچ ہزار کی فکر نہ کریں ان کا لڑکا چور ہر گز نہیں ہے ۔

عبدالمالک کے مطابق انہیں کسی گڑبڑ کا احساس ہوا کیونکہ ان کا بھتیجا بچپن سے ان کے پاس کام کررہا تھا وہ انتہائی محنتی اور ایماندار لڑکا تھا ۔یہ کسی صورت ممکن نہ تھا کہ وہ پیسے لیکر اپنا موبائل چھوڑ کر فرار ہوگیا ہو

عبدالمالک نے بتایا کہ وہ فوری طور پر اپنے ساتھ کچھ لوگوں کو لیکر مذکورہ بلڈنگ پہنچے ،جہاں نوید آخری مرتبہ ڈیلیوری دینے گیا تھا ۔

عمارت کے باہرنوید کا موٹر سائیکل بھی کھڑا تھا۔ جس کا مطلب تھا کہ وہ عمارت سے  باہر نہیں نکلا۔

ان کا کہنا تھا کہ عمارت کے   سی سی ٹی وی کیمرے چیک  کیئے تو اس میں واضح طور پر نوید سعید عمارت کے اندر داخل ہوا۔ خاتون کو ان کی ڈیلیوری پہنچائی، تیزی سے باہر نکلا، لفٹ کا  بٹن دبایا اور پھر اس کے بعد سی سی ٹی  وے کیمرے سے باہر نکلتے ہوا نظر نہیں آیا۔

ہم لوگوں نے تلاش کیا تو لفٹ کے نیچے دبا ہوا دبا۔  موبائیل ان کے پاس نہیں تھا کہ وہ کسی کو مدد کے لیئے پکارپاتا۔ وہ ڈیلیوری دے کر چار بجے لفٹ پر پہنچا تھے اور ہمیں ساڑھے سات بجے انکی لاش ملی  تھی۔ ہمیں نہیں معلوم کہ اس دوران اس پر کیا بیتی ؟

کیوں کہ کیمرہ فوٹیج کے مطابق اسے لفٹ کے نیچے پھنسے ہوئے کئی گھنٹے گزر چکے تھے۔اس واقعہ کے بعد نوید کے اہلخانہ اس کی میت کو لیکر آبائی علاقہ کہروڑ پکا چلے گئے ہیں ۔جبکہ اہل خانہ کے بقول وہ اسے تقدیر الہیٰ سمجھتے ہوئے کسی قسم کی قانونی کاروائی نہیں کرینگے

اس حوالے سے ایس ایچ او بوٹ بیسن پیرشبیر نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والے لڑکے کے اہلخانہ نے حادثہ کے بارے میں پولیس کو آگاہ نہیں کیا اور چونکہ اس وقت متاثرہ خاندان اپنے آبائی علاقے جا چکا ہے

البتہ جب وہ واپس آتے ہیں تو ان کے بیان ریکارڈ کئے جائیں گے اور قانونی کاروائی مکمل کی جائے گی۔

بہن بھائیوں اور دادی کا احساس رکھنے والا نوید 

جاں بحق ہونے والے نوجوان نوید سعید کے چاچا عبدالمالک کے بقول نوید بچپن سے ہی انتہائی محنتی اور جفاکش تھا ،والدین کی غربت کے پیش نظر وہ اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری نہ رکھ سکا

کیوں کہ اس کا والد مالی کا کام کرتا تھا ،اور وہ اپنے پانچ بہن بھائیوں میں سب سے بڑا تھا ،جس کی وجہ سے وہ اپنے دیگر بہن بھائیوں کی تعلیم کیلئے بہت کم عمری میں ہی محنت کرنے لگ گیا

اس نے میرے پاس ہی درزی کا کام سیکھا اور اس وقت بطور کاریگر میری دکان پر کام کررہا تھا ،لیکن حالیہ لاک ڈائون کی وجہ سے درزیوں کے کام بہت متاثر ہوئے تو اس نے میرے مشورے سے فوڈ پانڈا کے ساتھ ڈیلیوری بوائے کے طور پر رجسٹریشن کروالی

دن میں فارغ اوقات میں وہ ڈیلیوری دیکر اضافی رقم بھی کما لیتا ۔واقعہ والے روز بھی اس نے دو ڈیلیوریاں دینی تھی ،جس میں اس نے ایک ڈیلیوری دی اور دوسری ڈیلیوری کے دوران وہ حادثہ کا شکار ہوگیا

عبدالمالک کے مطابق نوید ہمارے باقی بچوں میں سے اپنی دادی کا سب سے لاڈلا اور ان کے قریب تھا ،وہ اپنی دادی کیلئے خود اپنے ہاتھوں سے کپڑے سیتا ،اس دفعہ بھی عید کیلئے اس نے دادی کے کپڑے تیار کرلئے تھے ،جنہیں وہ عید کے موقع پر انہیں سرپرائز دینا چاہتا تھا

وہ اپنی دادی کی دوائوں اور کھانے پینے کا خود خیال رکھتا اور اگر ہماری والدہ چند دنوں کیلئے بھی گائوں چلی جاتیں تو وہ ان کے پیچھے وہاں پہنچ جاتا اور انہیں واپس لے آتا

وہ انہیں کہتا  کہ آپ نہ جایا کریں آپ کے بغیر میرا دل نہیں لگتا

دوستوں کی عید پھیکی ہوگئی

نوید کے بچپن کے دوست اور کزن ذیشان شانی کے بقول ہم سب دوستوں کی عید اس بار نوید کی اچانک اور دردناک موت نے پھیکی کردی ہے ۔وہ ہماری محفل کی جان ہوا کرتا تھا ،ہم ہر عید پر خصوصی طور پر سارے دوست جمع ہو کر جاتے اور خوب ہلہ گلہ کرتے ،لیکن یہ عید اب شاید پہلی عیدوں کی طرح نہ ہو

ذیشان کے بقول اس عید کیلئے بھی ہم تمام دوستوں نے ایک جیسے کپڑے تیار کئے تھے اور عید کیلئے خصوصی پروگرام بنا رہے تھے لیکن سب کچھ ختم ہوگیا

وہ غریب نہیں مرنا چاہتا تھا

ذیشان شانی کے مطابق نوید کو اپنی غربت کا احساس تھا ،اس لئے اس نے بچپن سے ہی محنت کو اپنی عادت بنا لیا ۔وہ کبھی فارغ نہیں بیٹھتا تھا ،ہم دوست جب بھی اس سے مذاق کرتے کہ یار اتنی محنت کرکے کیا کروگے ؟

تو وہ کہتا تھا میں پیسے جمع کرکے گارمنٹس کا چھوٹا سا کاروبار کروں گا اور اسے اپنی محنت سے مزید پھیلائوں گا
محمد ذیشان شانی نے بتایا کہ کہ  نوید کبھی بھی سکون سے نہیں رہتا تھا۔ ہر وقت کچھ نہ کچھ کرتے رہتا ۔