دیگر پوسٹس

تازہ ترین

ماحولیاتی آلودگی کے برے اثرات!!

کدھر ہیں ماحولیاتی آلودگی اور انڈسٹریز اینڈ کنزیومرز کے محکمے جو یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں آبادی بیشک تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اپنا گھر ہر کسی کی خواہش اور ضرورت ہے رہائشی منصوبوں کی مخالفت نہیں کرتا اور ہائی رائزنگ عمارتوں کی تعمیر کو ضروری سمجھتا ہوں تاہم ہائی رائزنگ عمارتوں کی تعمیر اور اس سے جڑے ہوئے ضروری لوازمات اور معیار پر سمجھوتہ نہیں ہونا چاہئے اور باقاعدگی سے ان ہائی رائزنگ عمارتوں کی تعمیر کے وقت نگرانی کی جانی چاہئے

متبادل پر سوچیں!! سدھیر احمد آفریدی کی تحریر

یہ بلکل سچی بات ہے کہ کوئی بھی مشکل...

بیوٹی پارلر میں کام کرنیوالی لڑکی جس کی پرورش خالہ نے کی اور زندگی بھائی لے لی

ذرائع کے مطابق مقتولہ کو بچپن میں اس کی خالہ نے گود لے لیا تھا اور بالغ ہونے تک وہ اپنی خالہ کے پاس رہتی تھی پھر وہ ایک ڈاکٹر کے ساتھ بطور نرس کام کرتی رہی اس دوران وہ بیرون ملک چلی گئی جہاں سے دو ہفتے قبل واپس آئی اور اپنے منہ بولے ماموں غلام مصطفیٰ ولد روشن خان سکنہ سجی کوٹ روڈ قلندرآباد کی وساطت سے گوجری چوک میں فلیٹ کرائے پر لے کر رہنے لگی ۔

فاٹا انضمام کے معاملے پر مشران کی سپریم کورٹ سے مداخلت کی اپیل

ضلع خیبر سے جبران شنواری بالجبر انضمام اور پولیس نظام...

چین :طالبان افغانستان کی اہم سیاسی و عسکری قوت ہیں

آزادی ڈیسک


افغانستان کی کابل انتظامیہ کا ہر گزرتے دن کیساتھ گھیرا تنگ کرنیوالے طالبان کا ایک اعلی سطح وفد چین پہنچ چکا ہے

طالبان کا وفد ایک ایسے وقت میں بیجنگ میں موجود ہے جب دوحہ معاہدے کے مطابق افغان سرزمین سے امریکی فوج کے مکمل انخلا کا وقت قریب تر ہوتا جا رہا ہے داخلی محاذ پر بھی طالبان ملک کے غالب حصہ پر قابض ہو چکے ہیں اور حالیہ ہفتوں کے دوران طالبان نے چین کیساتھ ملنے والی سرحد کا کنٹرول حاصل کر لیا تھا

چین افغان سرحد اور خدشات

اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان صرف 76 کلومیٹر طویل سرحد ہے جو ناقابل گزر اور دشوار گزار پہاڑی سلسلوں پر مشتمل ہے جہاں مواصلات کا بنیادی ڈھانچہ موجود نہیں لیکن اس کے باوجود چین کو خدشہ ہے اس کے سنکیانگ کے علاقے میں گڑبڑ پھیلانے کیلئے افغانستان کی سرزمین کو استعمال کیا جا سکتا ہے


یہ بھی پڑھیں

  1. 46 افغان فوجی اہلکاروں‌ کی وطن واپسی اور امراللہ صالح کا منفی ردعمل
  2. افغان فوج کے پانچ افسران اور 41 اہلکاروں‌ کو پاکستان نے پناہ دیدی
  3. افغانستان جہاں طالبان ،وارلارڈز اور جنگ کے سوا اور بھی دنیائیں‌ آباد ہیں‌
  4. ڈیورنڈ معاہدہ اورافغانستان کے زیر قبضہ پاکستان کے علاقے جن پر کوئی بات نہیں‌کرتا

جہاں ماضی میں بھی ویغور مسلمانوں کے حوالے سے مسائل پیدا ہوتے رہے ہیں اور اس بارے میں چین پر ویغور مسلم اقلیت کیساتھ امتیازی سلوک روا رکھے جانے کا الزام عائد کیا جاتا ہے

طالبان ترجمان محمد نعیم نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ وفد نے چین کو یقین دہانی کروائی ہے کہ طالبان افغانستان کی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کی سلامتی کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دینگے

چین کی دعوت پر دورہ کرنے والے وفد میں ‏‎افغان طالبان سیاسی دفتر کے سربراہ ملا برادر ,خیراللہ خیراللہ، عبدالسلام حنفی،شہاب الدین دلاور،مطیع الحق خالص، عماریاسر،نبراس الحق عزیز،سہیل شاہین اور ڈاکٹر نعیم شامل ہیں

جبکہ چین کی جانب سے وزیر خارجہ وانگ لی نے وفد سے ملاقات کی اس موقع پر چینی وزیر خارجہ وانگ لی کا کہنا تھا ہمییں امید ہے کہ طالبان ہمارے خدشات کو بہتر انداز میں سمجھ سکتے ہیں

وانگ لی نے کہا طالبان اہم عسکری و سیاسی قوت ہیں جو امن عمل مصالحت اور تعمیر نو میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں

چین کو یقین ہے کہ طالبان اپنے عوام کے مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے امن مذاکرات اور تمام نسلی گروہوں کے مابین ہم آہنگی کیلئے کام کرینگے

طالبان ترجمان محمد نعیم کا کہنا تھا چین نے افغان عوام کیساتھ تعاون جاری رکھنے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے اور معاملات کو سلجھانے میں ہر ممکن تعاون کی یقین دھانی کروائی ہے

جبکہ امارت اسلامیہ کی جانب سے افغان عوام کیساتھ تعاون جاری رکھنے اور بالخصوص کووڈ سے نمٹنے کیلیے چین کی مدد پر شکریہ ادا کیا ہے

واضح رہے کہ طالبان قیادت کی جانب سے افغانستان کے ہمسایہ ممالک کیساتھ روابط بہتر بنانے کی کوششوں میں تیزی آ رہی جس کا مقصد اپنی ممکنہ واپسی کے حوالے اہم ممالک کے ساتھ اعتماد سازی ہے .حالیہ ہفتوں کے دوران طالبان وفود ماسکو اور تہران کا دورہ کر چکے ہیں

اس کے علاوہ اندرونی محاذ پر بھی ان کی کامیابیوں کا سلسلہ جاری ہے جہاں ان کے دعوؤں کیمطابق ملک کا 80 فیصد سے زائد علاقہ ان کے زیرنگیں ہے جن میں پاکستان ایران اور ازبکستان کیساتھ ملنے والی سرحدی راہداریاں بھی شامل ہیں

طالبان وفد کے حالیہ دورہ بیجنگ کے تناظر میں دیکھا جائے تو چینی حکمراں کیمونسٹ پارٹی اور طالبان کے مابین انتہائی نظریاتی بعد ہے لیکن اس کے باوجود دونوں فریقین کے درمیان روابط ماضی میں بھی موجود رہے ہیں

تاہم چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے بعد چین کیلیے ایک مستحکم اور پرامن افغانستان زیادہ ضروری ہے تاکہ اس کی معاشی و تجارتی سرگرمیوں کیلیے مواقع بڑھ سکیں کیونکہ وسط ایشیائی ریاستیں اس کے اہم اہداف میں شامل ہیں