دیگر پوسٹس

تازہ ترین

ماحولیاتی آلودگی کے برے اثرات!!

کدھر ہیں ماحولیاتی آلودگی اور انڈسٹریز اینڈ کنزیومرز کے محکمے جو یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں آبادی بیشک تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اپنا گھر ہر کسی کی خواہش اور ضرورت ہے رہائشی منصوبوں کی مخالفت نہیں کرتا اور ہائی رائزنگ عمارتوں کی تعمیر کو ضروری سمجھتا ہوں تاہم ہائی رائزنگ عمارتوں کی تعمیر اور اس سے جڑے ہوئے ضروری لوازمات اور معیار پر سمجھوتہ نہیں ہونا چاہئے اور باقاعدگی سے ان ہائی رائزنگ عمارتوں کی تعمیر کے وقت نگرانی کی جانی چاہئے

متبادل پر سوچیں!! سدھیر احمد آفریدی کی تحریر

یہ بلکل سچی بات ہے کہ کوئی بھی مشکل...

بیوٹی پارلر میں کام کرنیوالی لڑکی جس کی پرورش خالہ نے کی اور زندگی بھائی لے لی

ذرائع کے مطابق مقتولہ کو بچپن میں اس کی خالہ نے گود لے لیا تھا اور بالغ ہونے تک وہ اپنی خالہ کے پاس رہتی تھی پھر وہ ایک ڈاکٹر کے ساتھ بطور نرس کام کرتی رہی اس دوران وہ بیرون ملک چلی گئی جہاں سے دو ہفتے قبل واپس آئی اور اپنے منہ بولے ماموں غلام مصطفیٰ ولد روشن خان سکنہ سجی کوٹ روڈ قلندرآباد کی وساطت سے گوجری چوک میں فلیٹ کرائے پر لے کر رہنے لگی ۔

فاٹا انضمام کے معاملے پر مشران کی سپریم کورٹ سے مداخلت کی اپیل

ضلع خیبر سے جبران شنواری بالجبر انضمام اور پولیس نظام...

چینی ارب پتی جیک ما کی اچانک پاکستان آمد پر کوئی حیران کوئی پریشان

چین کے عالمی سطح پر معروف تجارتی ادارے علی بابا کے شریک بانی کے اچانک دورہ پاکستان نے کئی حلقوں کو مخمصہ میں ڈال دیا ہے

ارب پتی چینی تاجر جیک ما ایک نجی طیارے کے ذریعے نیپال کے دارلحکومت کھٹمنڈو سے لاہور پہنچے جہاں انہوں نے ایک دن گزارا اور اس کے بعد وہ اپنی منزل کیلئے روانہ ہو گئے ۔ان کی لاہور آمد کا معاملہ اس حد تک نجی رکھا گیا کہ پاکستان میں چینی سفارتخانہ بھی ان کی آمد اور دورے کے مقاصد سے بظاہر لاعلم دکھائی دیا

نیپال میں بھی جیک ما زیادہ تر تاریخی و ثقافتی شہرت کے حامل مقامات کا انتخاب کیا اور متعدد سیاحتی علاقوں کی سیر بھی کی ۔

پاکستان میں جیک ما کی موجودگی کے بارے میں سابق وزیر مملکت اور چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ محمد اظفر احسن اپنی ایک ٹوئٹ کے ذریعے دنیا کو حیرت میں مبتلا کردیا ۔ جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ جیک ما اس وقت لاہور میں موجود ہیں تاہم ان کا دورہ خالصتاً نجی نوعیت کا ہے ۔

جیک ما کے ساتھ ان کے دورے میں سات دیگر افراد بھی شامل ہیں جن میں ایک امریکی اور پانچ چینی شہری ہیں اور ان کے اس سفر کا آغاز اکھٹے چین سے شروع ہوا تھا ۔

ان کے اچانک دورے کے بارے میں واضح تفصیلات دستیاب نہ ہونے کے باعث کئی طرح کی چہ میگوئیاں بھی ہورہی ہیں بالخصوص پڑوسی ملک بھارت کے میڈیا میں کئی طرح کی قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں اور وہ اس دورے کے بارے میں تفصیلات جاننے کیلئے زیادہ بے چین دکھائی دے رہے ہیں

یہ بھی پڑھیں

ای تجارت کو دنیا میں نیا تصور عطا کرنے والے عالمی شہرت یافتہ چینی تاجر ،سرمایہ کار جیک ماہ کے دورہ پاکستان کے بارے میں اگرچہ زیادہ تفصیلات دستیاب نہیں ہیں تاہم قیاس کیا جاتا ہے وہ پاکستان میں نئے کاروباری مواقع کی تلاش میں ہیں کیوں اس ملک کی تقریباً 63 فیصد آبادی نوجوان طبقہ پر مشتمل ہے اور جو جدید ٹیکنالوجی سے بڑی حد تک لیس ہے ۔

جبکہ پاکستانی حکومت بھی جدید تقاضوں کے مطابق صنعت و تجارت کو استوار کرنے کی خواہاں اور اس معاملے میں جیک ما کا وسیع اور عملی تجربہ ان کے لئے اہم معاون ثابت ہو سکتا ہے اور ایک ایسے وقت میں جب پاکستان معاشی مشکلات سے گزر رہا ہے جیک ما جیسے عالمی شہرت یافتہ چینی سرمایہ کار کی آمد سے نئی راہیں کھل سکتی ہیں