دیگر پوسٹس

تازہ ترین

ماحولیاتی آلودگی کے برے اثرات!!

کدھر ہیں ماحولیاتی آلودگی اور انڈسٹریز اینڈ کنزیومرز کے محکمے جو یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں آبادی بیشک تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اپنا گھر ہر کسی کی خواہش اور ضرورت ہے رہائشی منصوبوں کی مخالفت نہیں کرتا اور ہائی رائزنگ عمارتوں کی تعمیر کو ضروری سمجھتا ہوں تاہم ہائی رائزنگ عمارتوں کی تعمیر اور اس سے جڑے ہوئے ضروری لوازمات اور معیار پر سمجھوتہ نہیں ہونا چاہئے اور باقاعدگی سے ان ہائی رائزنگ عمارتوں کی تعمیر کے وقت نگرانی کی جانی چاہئے

متبادل پر سوچیں!! سدھیر احمد آفریدی کی تحریر

یہ بلکل سچی بات ہے کہ کوئی بھی مشکل...

بیوٹی پارلر میں کام کرنیوالی لڑکی جس کی پرورش خالہ نے کی اور زندگی بھائی لے لی

ذرائع کے مطابق مقتولہ کو بچپن میں اس کی خالہ نے گود لے لیا تھا اور بالغ ہونے تک وہ اپنی خالہ کے پاس رہتی تھی پھر وہ ایک ڈاکٹر کے ساتھ بطور نرس کام کرتی رہی اس دوران وہ بیرون ملک چلی گئی جہاں سے دو ہفتے قبل واپس آئی اور اپنے منہ بولے ماموں غلام مصطفیٰ ولد روشن خان سکنہ سجی کوٹ روڈ قلندرآباد کی وساطت سے گوجری چوک میں فلیٹ کرائے پر لے کر رہنے لگی ۔

فاٹا انضمام کے معاملے پر مشران کی سپریم کورٹ سے مداخلت کی اپیل

ضلع خیبر سے جبران شنواری بالجبر انضمام اور پولیس نظام...

مقبوضہ کشمیر کی سیاسی قیادت کی مودی سے ملاقات کا ایجنڈا کیا ہے ؟

آزادی ڈیسک


مقبوضہ کشمیر کی سیاسی قیادت کا جمعرات کے روز بھارتی وزیر اعظم نریندرامودی سے ملاقات کا فیصلہ ،ذرائع ابلاغ کے مطابق بھارت اور مقبوضہ کشمیر کی سیاسی قیادت کے درمیان اگست 2019 میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کئے جانے کے بعد یہ پہلا باضابطہ رابطہ ہے

اور یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں بھی ہورہی ہے جب مقبوضہ وادی گذشتہ تقریباً دوسال سے عملی طور پر مفلوج ہے ،ابلاغ کے ذرائع پر پابندی ہے ،انٹرنیٹ معطل ہے اور ہزاروں سیاسی قائدین اور کارکنان مختلف بھارتی جیلوں میں بند ہیں


یہ بھی پڑھیں

  1. عمران خان،موجودہ حالات میں بھارت سے تعلقات کشمیریوں سے غداری ہوگی
  2. غلام مصطفی شاہ ،تحریک آزادی کشمیر کا اہم کردار،جو اپنوں‌بیگانوں‌کی بے اعتنائی کا شکار ہوا
  3. متحدہ عرب امارات کی ثالثی میں پاک بھارت خفیہ مذاکرات
  4. پاکستان کن شرائط پر بھارت سے مذاکرات کا خواہشمندہے ؟

واضح رہے کہ گذشتہ کئی دہائیوں سے کشمیر میں علیحدگی کی سیاسی و مسلح تحریک کو دبانے میں ناکامی کے بعد مودی حکومت نے وادی پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کیلئے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کرتے ہوئے وادی اور لداخ کو دو وفاقی اکائیوں میں تقسیم کردیا تھا

بھارتی حکومت کے اس فیصلے کے خلاف بھارت نواز کشمیری قیادت نے ابتداء میں شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا ،جس کے بعد پی ڈی پی کی رہنمااور سابق کٹھ پتلی وزرائے اعلیٰ محبوبہ مفتی اورنیشنل کانفرنس کے عمرعبداللہ کو بھی کئی ماہ تک انکے گھر وں میں نظر بند رکھا گیا تھا

جمعرات کے روز نریندرا مودی کیساتھ ملاقات پر آمادگی ظاہر کرنے والوں میں محبوبہ مفتی بھی شامل ہیں ،تاہم ان کا کہنا ہے کہ ان کی مودی سے ملاقات کا مقصدریاست جموں وکشمیر کی اگست 2019 سے قبل کی پوزیشن بحال کروانا ہے ۔جبکہ نیشنل کانفرنس بھی اسی نظریے کی حامی ہے

پرامن طریقہ سے ریاست کی حیثیت بحال کرنا ایجنڈا ہے ،پی ڈی پی

جبکہ پی ڈی پی کے ترجمان سہیل بخاری کا کہنا ہے گذشتہ سال کشمیرکی ریاست حیثیت کو بحال کروانے کے لئے قائم ہونے والے سیاسی جماعتوں کا اتحاد پرامن طور پر کشمیر کی پرانی حیثیت بحال کروانے کا خواہاں ہے اور ان کے نمائندوں کی بھارتی وزیر اعظم سے ملاقات کا مقصدبھی یہی ہے

اگست 2019 میں بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت میں ردوبدل کے خلاف پاکستان نے شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا اور احتجاجا بھارت کیساتھ سفارتی و تجارتی تعلقات کم ترین سطح پر آگئے تھے ۔

تاہم حالیہ مہینوں کے دوران عالمی ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں تواتر کے ساتھ شائع ہوئیں جن کے مطابق کشمیر کے معاملہ پر صف آراء دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان خفیہ مذاکرات ہوئے ہیں ،جبکہ رواں سال ہی دونوں ممالک کنٹرول لائن پر سیز فائرمعاہدہ پر رضامند ہوگئے تھے