دیگر پوسٹس

تازہ ترین

ماحولیاتی آلودگی کے برے اثرات!!

کدھر ہیں ماحولیاتی آلودگی اور انڈسٹریز اینڈ کنزیومرز کے محکمے جو یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں آبادی بیشک تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اپنا گھر ہر کسی کی خواہش اور ضرورت ہے رہائشی منصوبوں کی مخالفت نہیں کرتا اور ہائی رائزنگ عمارتوں کی تعمیر کو ضروری سمجھتا ہوں تاہم ہائی رائزنگ عمارتوں کی تعمیر اور اس سے جڑے ہوئے ضروری لوازمات اور معیار پر سمجھوتہ نہیں ہونا چاہئے اور باقاعدگی سے ان ہائی رائزنگ عمارتوں کی تعمیر کے وقت نگرانی کی جانی چاہئے

متبادل پر سوچیں!! سدھیر احمد آفریدی کی تحریر

یہ بلکل سچی بات ہے کہ کوئی بھی مشکل...

بیوٹی پارلر میں کام کرنیوالی لڑکی جس کی پرورش خالہ نے کی اور زندگی بھائی لے لی

ذرائع کے مطابق مقتولہ کو بچپن میں اس کی خالہ نے گود لے لیا تھا اور بالغ ہونے تک وہ اپنی خالہ کے پاس رہتی تھی پھر وہ ایک ڈاکٹر کے ساتھ بطور نرس کام کرتی رہی اس دوران وہ بیرون ملک چلی گئی جہاں سے دو ہفتے قبل واپس آئی اور اپنے منہ بولے ماموں غلام مصطفیٰ ولد روشن خان سکنہ سجی کوٹ روڈ قلندرآباد کی وساطت سے گوجری چوک میں فلیٹ کرائے پر لے کر رہنے لگی ۔

فاٹا انضمام کے معاملے پر مشران کی سپریم کورٹ سے مداخلت کی اپیل

ضلع خیبر سے جبران شنواری بالجبر انضمام اور پولیس نظام...

مرحوم والد کی خواہش پوری،22 گولڈ میڈلزمیڈیکل کی طالبہ ڈاکٹر زینب کے نام

آزادی نیوز

ایبٹ آباد کے قریبی گاوں سلہڈ سے تعلق رکھنے والے سابق نائب تحصیلدار مرحوم جاوید خان کی قابل فخر صاحبزادی ڈاکٹر زینب جاوید نے خیبر میڈیکل یونیورسٹی پشاور کے سیشن 2013-2017 کے ہونے والے امتحانات میں اپنی نمایاں اور بے مثال کارکردگی کی بدولت 22 گولڈ میڈلز اپنے نام کرتے ہوئے ریکارڈ ساز کامیابی اپنے نام کی

اور ایوب میڈیکل کالج ایبٹ آباد میں منعقدہ حالیہ کنوکیشن میں گورنر کے پی غلام علی نے ان کو اعزازات سے نوازا اور اس شاندار کامیابی پر ڈاکٹر زینب جاوید کو مبارکباد پیش کی۔۔ایوب میڈیکل کالج ایبٹ آباد میں مختلف سیشن میں نمایاں کارکردگی کے حامل ڈاکٹرز میں میڈلز۔ڈگریاں اور دیگر اعزازت تقسیم کرنے کے حوالے سے خصوصی تقریب منعقد ہوئی جسمیں گورنر کے پی غلام علی مہمان خصوصی تھے۔

یہ بھی پڑھیں

اس تقریب میں ایوب میڈیکل کالج ایبٹ آباد سے سیشن 2013 -2017 کے درمیان اپنی ڈگری مکمل کرنے والی ہونہار طالبہ ڈاکٹر زینب جاوید جن کا تعلق ایبٹ آباد کی قریبی بستی سلہڈ سے ہے اور وہ سابق نائب تحصیلدار مرحوم جاوید خان کی صاحبزادی ہیں نے ریکارڈ ساز کامیابی حاصل کی اور اپنے مرحوم باپ کی خواہش کو پورا کرتے ہوئے اپنے سیشن میں 22 گولڈ میڈلز حاصل کرتے ہوئے خیبر میڈیکل یونیورسٹی پشاور کی بہترین طالبہ کا اعزاز بھی اپنے نام کیا

انہوں نے میڈیکل کے شعبوں میڈیسن۔اناٹومی۔کمیونٹی میڈیسن۔گائناکالوجی۔سپیشل پتھیالوجی۔سرجری ۔فرانزک میڈیسن ۔بائیو کیمسٹری ۔پیڈاٹرکس۔سائیکالوجی ۔فارماکالوجی۔آئی۔کے شعبوں میں گولڈ میڈلز کے ساتھ ساتھ فرسٹ پروفیشن ۔سیکنڈ پروفیشن۔تھرڈ پروفیشن ۔فورتھ پروفیشن۔اور فائنل پروفیشن سمیت اوور آل بیسٹ گریجویٹ کے گولڈ میڈلز بھی اپنے نام کرتے ہوئے ایک نئی تاریخ رقم کی۔

ڈاکٹر زینب جاوید نے اپنی کامیابی کو اپنے والد کے نام کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آج وہ جس مقام پر ہیں اسکا سارا کریڈٹ انکے والدین۔خاندان اور خصوصا انکے والد مرحوم جاوید خان کو جاتا ہے جنکی مکمل سرپرستی کی وجہ سے وہ اس کامیابی سے ہمکنار ہوئیں اور وہ دعا گو ہیں کہ رب کائنات انکے والد کو کروٹ کروٹ جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے ۔۔۔