دیگر پوسٹس

تازہ ترین

!!!مذاکرات ہی مسائل کا حل ہے

سدھیر احمد آفریدی کوکی خیل، تاریخی اور بہادر آفریدی قبیلے...

حالات کی نزاکت کو سمجھو!!!

سدھیر احمد آفریدی پہلی بار کسی پاکستانی لیڈر کو غریبوں...

ماحولیاتی آلودگی کے برے اثرات!!

کدھر ہیں ماحولیاتی آلودگی اور انڈسٹریز اینڈ کنزیومرز کے محکمے جو یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں آبادی بیشک تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اپنا گھر ہر کسی کی خواہش اور ضرورت ہے رہائشی منصوبوں کی مخالفت نہیں کرتا اور ہائی رائزنگ عمارتوں کی تعمیر کو ضروری سمجھتا ہوں تاہم ہائی رائزنگ عمارتوں کی تعمیر اور اس سے جڑے ہوئے ضروری لوازمات اور معیار پر سمجھوتہ نہیں ہونا چاہئے اور باقاعدگی سے ان ہائی رائزنگ عمارتوں کی تعمیر کے وقت نگرانی کی جانی چاہئے

متبادل پر سوچیں!! سدھیر احمد آفریدی کی تحریر

یہ بلکل سچی بات ہے کہ کوئی بھی مشکل...

ضرورت پڑنے پر انٹرنیٹ بند ،فوج بلانے پر غور

آزادی نیوز

تحریک لبیک پاکستان کے رہنما سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد دوسرے روز بھی ملک بھر احتجاج اور دھرنوں کا سلسلہ جاری ہے ،جس کے پیش نظر وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کی زیرصدارت اعلیٰ سطح اجلاس منعقد ہوا

جس میں ٹی ایل پی کی جانب سے دھرنوں اور احتجاج کے نتیجے میں ملک بھر میں پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لیا گیا

اجلاس میں وفاقی وزیر مذہبی امور نورالحق قادری ،آئی جی اسلام آباد ،چیف کمشنر ،جبکہ آئی جی پنجاب اور چیف سیکرٹری پنجاب نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی

سعدرضوی اور تحریک لبیک رہنمائوں پر دہشتگردی کے مقدمات قائم

تحریک لبیک کے قائد سعدرضوی کی گرفتاری پر ملک بھر میں احتجاج جاری

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جس شہر میں حالات خراب ہوں وہاں انٹرنیٹ سروس 24 گھنٹے کےلئے بند کردی جائے

قانون توڑنے والوں کےساتھ سختی سے نمٹا جائے گا اور بند راستوں کو کھولنے کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے

تحریک لبیک کے کارکنان مری روڈ پر دھرنا دیئے بیٹھے ہیں

دریں اثنا لاہور میں بھی بندراستوں کو کھلوانے کےلئے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے خصوصی ہدایات جاری کردی ہیں جبکہ صوبائی وزیر داخلہ راجہ بشارت نے سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور پولیس اہلکاروں پر تشدد کے ذمہ داروں کے خلاف فوری مقدمات درج کرنیکی ہدایت کی ہے

لاہور میں 16 اہم مقامات پر پولیس کے ساتھ رینجرز بھی تعینات کرنے کا حکم دیا گیا ہے جن میں وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ ،جی او آر ون ،سول سیکرٹریٹ ،گورنر ہائوس ،پنجاب اسمبلی اور آئی جی آفس شامل ہیں

اجلاس میں اس بات کی بھی منظوری دی گئی کہ اگر حالات قابو سے باہر ہوتے ہیں تو پاک فوج کی خدمات حاصل کی جاسکتی ہیں