خالد قیوم تنولی
بیماری میں خود کنفیوزڈ ہونے کی بجاۓ بیماری کو کنفیوز کیا کریں۔ ہم نے ذیابیطس کی ادویات شروع کیں تو ساتھ اصل مرض کے دیگر شکایات نے بھی سر اٹھانا شروع کردیا۔
آنکھ کھلی تو خود کو ابا کے سینے سے چمٹے ہوئے دیکھا…
”خان بابا ۔۔۔ پھول وہی دیتے ہیں جنھیں دل درکار نہ ہو۔“
کبھی معدہ خراب ، کبھی جسم و جوڑوں کے درد ،ٰ کبھی نیند معترض و بضد ، کبھی شدید نقاہت اور کبھی کم فشارِ خون کا رولا۔ پھر فیصلہ کیا اور دواٸیں اٹھا کر پھینک دیں۔ انسولین کا آپشن زیرغور تھا مگر اب وہ بھی منسوخ کردیا۔
اب ہوتا یہ ھے کہ ہم چاۓ بناتے وقت چینی یا گُڑ کی کچھ مقدار سامنے رکھ لیتے ہیں اور آخری چسکی یا گھونٹ تک دونوں کو دیکھ دیکھ کر شوگر کو ایویں ای خوش وقت کرتے ہیں اور انجام کار مایوس کردیتے ہیں۔
مگر بعد میں جب ہمارا مرض خوابیدگی کی کیفیت میں ہوتا ھے تو ہم برفی یا گلاب جامن کو نہایت خاموشی اور عیاری سے معدے کی راہ دکھا کر خود لمبی واک پر نکل جاتے ہیں۔
گاٶں میں بیش تر لوگوں سے پوچھا کہ شوگر تو نہیں؟ جواب نفی میں آیا۔ وجہ یہ ھے کہ وہاں کی زندگی اور روزمرہ امور کافی کٹھن بلکہ مشقت طلب ہیں۔ ہم بھی سابقہ تجربے کی بنیاد پر بہتیری اتراٸیاں اترے اور چڑھاٸیاں چڑھے تو محسوس ہوا کہ جیسے کوٸی مسٸلہ ھے ہی نہیں۔ خوراک میں بدپرہیزی بھی کر دیکھی مگر کوٸی شکایت نہ ہوٸی۔
مرض کو سنبھلنے کا موقع نہیں دینا چاہیے۔ یعنی اگر بیماری تقاضا کرے کہ آرام کرنا ھے تو خود کو کسی نہ کسی مزید سرگرمی میں مشغول کر لیں۔ اگر طبیعت چاہے کہ اب کافی سو لیا تو مزید سویا جاۓ۔
جب بھوک نہ ہو تو منڈ کے کھاٸیں اور جب پیٹ خالی ہو تو ضد کر کے صرف ایک پیالی قہوے کی پی کر کلہاڑی اٹھاٸیں اور لکڑیاں چیرنا شروع کر دیں یا بیلچہ تھام کر ریت کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر دیں
یا کسی بھی درخت پر دس بارہ بار چڑھنے اور اترنے کی مشق فرماٸیں۔ نفس مطمٸنہ و عمارہ کے الٹ چلیں۔ بیماری پسوڑی میں پڑ جاۓ گی کہ کس واہیات انسان سے پالا پڑ گیا ھے۔ بیماری کو حاوی نہ ہونے دیں
بلکہ آگے بڑھ بڑھ کر اس پر حملے کریں۔ سیدھا دکھا کر الٹا جڑ دیں۔ دوڑا دوڑا کر تھکا دیں۔ پھر مزید دوڑاٸیں۔ کنفیوز کر کے رکھ دیں۔ بیماری کو ہی بیمار کر دیں۔ کسی کے الٹے سیدھے ٹوٹکوں اور نسخوں کو خاطر میںنہ لاٸیں ورنہ مرض کے نخرے بڑھتے جاٸیں گے۔
خالد قیوم تنولی خطہ شمال کے اردو اور ہندکو ادب کا شناسا چہرہ،جو لطافت و حساسیت کے جذبے سے لبریز تحاریر کے زریعے معاشرتی پہلوٶں کو اجاگر کرنے کا ملکہ رکھتے ہیں