دیگر پوسٹس

تازہ ترین

ماحولیاتی آلودگی کے برے اثرات!!

کدھر ہیں ماحولیاتی آلودگی اور انڈسٹریز اینڈ کنزیومرز کے محکمے جو یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں آبادی بیشک تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اپنا گھر ہر کسی کی خواہش اور ضرورت ہے رہائشی منصوبوں کی مخالفت نہیں کرتا اور ہائی رائزنگ عمارتوں کی تعمیر کو ضروری سمجھتا ہوں تاہم ہائی رائزنگ عمارتوں کی تعمیر اور اس سے جڑے ہوئے ضروری لوازمات اور معیار پر سمجھوتہ نہیں ہونا چاہئے اور باقاعدگی سے ان ہائی رائزنگ عمارتوں کی تعمیر کے وقت نگرانی کی جانی چاہئے

متبادل پر سوچیں!! سدھیر احمد آفریدی کی تحریر

یہ بلکل سچی بات ہے کہ کوئی بھی مشکل...

بیوٹی پارلر میں کام کرنیوالی لڑکی جس کی پرورش خالہ نے کی اور زندگی بھائی لے لی

ذرائع کے مطابق مقتولہ کو بچپن میں اس کی خالہ نے گود لے لیا تھا اور بالغ ہونے تک وہ اپنی خالہ کے پاس رہتی تھی پھر وہ ایک ڈاکٹر کے ساتھ بطور نرس کام کرتی رہی اس دوران وہ بیرون ملک چلی گئی جہاں سے دو ہفتے قبل واپس آئی اور اپنے منہ بولے ماموں غلام مصطفیٰ ولد روشن خان سکنہ سجی کوٹ روڈ قلندرآباد کی وساطت سے گوجری چوک میں فلیٹ کرائے پر لے کر رہنے لگی ۔

فاٹا انضمام کے معاملے پر مشران کی سپریم کورٹ سے مداخلت کی اپیل

ضلع خیبر سے جبران شنواری بالجبر انضمام اور پولیس نظام...

سید علی گیلانی کے اہلخانہ کے خلاف آزادی کے نعرے لگانے کا مقدمہ درج

مظفرآباد
شفیق سید


آزادی کے نعرے لگانے اورسید علی گیلانی مرحوم کی میت کو پاکستانی پرچم میں لپیٹنے کے جرم میں بھارتی مقبوضہ کشمیر میں قابض انتظامیہ نے سیدعلی گیلانی کے اہل خانہ کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ۔

میڈیا رپورٹس کیمطابق یہ مقدمہ بڈگام کے پولیس سٹیشن میں ہفتہ کی شام کو درج کیا گیا ۔واضح رہے کہ طویل عرصہ سے علیل پیرانہ سال سید علی گیلانی گذشتہ تقریباً 11 سال سے اپنی رہائش گاہ پر نظربندتھے ۔

92 سالہ سید علی گیلانی مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی اور الحاق پاکستان کی سب سے مضبوط آوازتھی ،جنہیں 50 سال کے قریب بھارتی جیلوں کی سختیاں اور تشدد بھی ان کی راہ سے ہٹانے میں ناکام رہا

آخری سالوں میں انہیں ان کی رہائش گاہ پر مسلسل نظربند رکھا گیا جہاں بدھ کی رات کو ان کا انتقال ہوگیا
سید علی گیلانی کی وفات کی خبر عام ہوتے ہی پوری مقبوضہ وادی میں عملاً کرفیو نافذ کردیا گیا اور انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس معطل کردی گئیں


یہ بھی پڑھیں


جبکہ بڑی تعداد میں قابض فوج نےان کی رہائش گاہ کے علاقے حیدر پورہ کو اپنے گھیرے میں لے لیا اور شہریوں کی نقل و حرکت پر پابندی لگا دی گئی

جبکہ اسی رات بھارتی پولیس اور سیکورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد حریت رہنما کی رہائش گاہ میں داخل ہوگئی اور اہلخانہ سے مرحوم کی میت زبردستی چھین کر لے گئے اور گھر میں موجود افراد کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے مردوخواتین کو کمروں میں بند کردیا گیا اور بعدازاں رات کی تاریکی میں ہی ان کی رہائش گاہ کے قریب تدفین کردی گئی

واضح رہے کہ جس وقت بھارتی قابض انتظامیہ میت کو زبردستی چھیننے کی کوشش کررہی تھی کہ اس وقت ان کی میت پاکستان کے سبز ہلالی پرچم میں لپیٹی ہوئی تھی

دوسری جانب اس مرحوم سید علی گیلانی کی میت کی بے حرمتی اور اہلخانہ کے ساتھ بدسلوکی کے خلاف پاکستان نے شدید ردعمل کا اظہار کیا اور پاکستان میں بھارتی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کرکے اس واقعہ کے خلاف احتجاج ریکارڈ کروایا گیا

وزیراعظم عمران خان کی مذمت

دریں اثنا وزیر اعظم عمران خان نے سید علی گیلانی کی میت چھیننے اور ان کے اہلخانہ کےخلاف مقدمہ درج کرنے کے واقعہ کی شدید مذمت کی ہے
اپنے ایک ٹوئٹ میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا
92 سالہ سید علی گیلانی جیسے بااصول اور باوقار رہنما کی میت چھیننا اور ان کے اہلخانہ کے خلاف مقدمہ درج کرنا بھارت میں نازی ازم سے متاثرہ بے جی پی حکومت کی ایک اور شرمناک مثال ہے
@ImranKhanPTI
Snatching the body of the 92 year old Syed Ali Geelani, one of the most respected & principled Kashmiri ldrs, & then registering cases against his family is just another shameful example of India’s descent into fascism under the Nazi-inspired RSS-BJP govt