دیگر پوسٹس

تازہ ترین

ماحولیاتی آلودگی کے برے اثرات!!

کدھر ہیں ماحولیاتی آلودگی اور انڈسٹریز اینڈ کنزیومرز کے محکمے جو یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں آبادی بیشک تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اپنا گھر ہر کسی کی خواہش اور ضرورت ہے رہائشی منصوبوں کی مخالفت نہیں کرتا اور ہائی رائزنگ عمارتوں کی تعمیر کو ضروری سمجھتا ہوں تاہم ہائی رائزنگ عمارتوں کی تعمیر اور اس سے جڑے ہوئے ضروری لوازمات اور معیار پر سمجھوتہ نہیں ہونا چاہئے اور باقاعدگی سے ان ہائی رائزنگ عمارتوں کی تعمیر کے وقت نگرانی کی جانی چاہئے

متبادل پر سوچیں!! سدھیر احمد آفریدی کی تحریر

یہ بلکل سچی بات ہے کہ کوئی بھی مشکل...

بیوٹی پارلر میں کام کرنیوالی لڑکی جس کی پرورش خالہ نے کی اور زندگی بھائی لے لی

ذرائع کے مطابق مقتولہ کو بچپن میں اس کی خالہ نے گود لے لیا تھا اور بالغ ہونے تک وہ اپنی خالہ کے پاس رہتی تھی پھر وہ ایک ڈاکٹر کے ساتھ بطور نرس کام کرتی رہی اس دوران وہ بیرون ملک چلی گئی جہاں سے دو ہفتے قبل واپس آئی اور اپنے منہ بولے ماموں غلام مصطفیٰ ولد روشن خان سکنہ سجی کوٹ روڈ قلندرآباد کی وساطت سے گوجری چوک میں فلیٹ کرائے پر لے کر رہنے لگی ۔

فاٹا انضمام کے معاملے پر مشران کی سپریم کورٹ سے مداخلت کی اپیل

ضلع خیبر سے جبران شنواری بالجبر انضمام اور پولیس نظام...

سیاسی مداخلت ،خیبرپختونخواہ میں شعبہ صحت کی تباہی کا سبب

سید کوثر نقوی

پیپلز ڈاکٹر فورم نے خیبر پختونخواہ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تباہی کا شکار شعبہ صحت کی بحالی کیلئے بورڈ آف گورنرز کو ختم کر کے میڈیکل انسٹیٹوشن رولز 2001 کو بحال کیا جائے

پیپلز ڈاکٹر فورم پی ڈی ایف خیبرپختونخواہ کے صدر  پروفیسر ڈاکٹر نثار خان اور جنرل سیکرٹری ڈاکٹر داود اقبال نے اپنے بیان میں کہا کہ صوبہ بھر میں ہسپتالوں کا نظام اور نجی و سرکاری شعبہ صحت انتہائی زبوں حالی کا شکار ہے

یہ بھی پڑھیں

جس کی سب سے بڑی وجہ میڈیکل انسٹیٹیوشنز ایکٹ 2015 کے تحت بڑے پیمانے پر سیاسی بھرتیاں اور تعیناتیاں تھیںجنہیں فوری طور پر ختم کرنے اور2001 ایکٹ کو بحال کرنے کی ضرورت ہے

ڈاکٹر نثار خان کا مزید کہنا تھا گذشتہ دس سالوں کے دوران صحت کے شعبے میں بڑے پیمانے پر سیاسی بھرتیاں کی گئیں جو اس شعبہ کی تباہی کا سبب بنا اور موجودہ نگران حکومت کا معاملے کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے فوری نوٹس لینا چاہیے

انہوں نے کہا صوبہ بھر میں ڈاکٹروں کی تنخواہوں میں اضافے کے ساتھ انہیں مکمل جاب سیکورٹی اور برابری کے مواقع فراہم کئے جائیں

گذشتہ دس سال کے دوران خیبرپختونخواہ میں بورڈ آف گورنرز کے نام پر پاکستان تحریک انصاف کے لوگوں کو سیاسی وفاداریوں کے عوض نوازا گیا

اور اس کے سوا ان لوگوں کی کوئی اہلیت نہ تھی جس کی وجہ سے صوبے کے تمام ہسپتال تباہ ہو کر رہ گئے اور اس وقت شعبہ صحت افراتفری کا شکار ہے

پیپلز ڈاکٹر فورم نے مطالبہ کیا کہ کسی بھی متنازعہ شخص کو بورڈ آف گورنرز میں شامل نہ کیا جائے بلکہ سیاسی بنیادوں پر نوازنے کی روش کا خاتمہ وقت کی ضرورت ہے