دیگر پوسٹس

تازہ ترین

ماحولیاتی آلودگی کے برے اثرات!!

کدھر ہیں ماحولیاتی آلودگی اور انڈسٹریز اینڈ کنزیومرز کے محکمے جو یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں آبادی بیشک تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اپنا گھر ہر کسی کی خواہش اور ضرورت ہے رہائشی منصوبوں کی مخالفت نہیں کرتا اور ہائی رائزنگ عمارتوں کی تعمیر کو ضروری سمجھتا ہوں تاہم ہائی رائزنگ عمارتوں کی تعمیر اور اس سے جڑے ہوئے ضروری لوازمات اور معیار پر سمجھوتہ نہیں ہونا چاہئے اور باقاعدگی سے ان ہائی رائزنگ عمارتوں کی تعمیر کے وقت نگرانی کی جانی چاہئے

متبادل پر سوچیں!! سدھیر احمد آفریدی کی تحریر

یہ بلکل سچی بات ہے کہ کوئی بھی مشکل...

بیوٹی پارلر میں کام کرنیوالی لڑکی جس کی پرورش خالہ نے کی اور زندگی بھائی لے لی

ذرائع کے مطابق مقتولہ کو بچپن میں اس کی خالہ نے گود لے لیا تھا اور بالغ ہونے تک وہ اپنی خالہ کے پاس رہتی تھی پھر وہ ایک ڈاکٹر کے ساتھ بطور نرس کام کرتی رہی اس دوران وہ بیرون ملک چلی گئی جہاں سے دو ہفتے قبل واپس آئی اور اپنے منہ بولے ماموں غلام مصطفیٰ ولد روشن خان سکنہ سجی کوٹ روڈ قلندرآباد کی وساطت سے گوجری چوک میں فلیٹ کرائے پر لے کر رہنے لگی ۔

فاٹا انضمام کے معاملے پر مشران کی سپریم کورٹ سے مداخلت کی اپیل

ضلع خیبر سے جبران شنواری بالجبر انضمام اور پولیس نظام...

سعودی عرب کی جیلوں‌سے رہائی پانے والے 28 پاکستانی وطن واپس پہنچ گئے

مسرت اللہ جان


سعودی عرب کی مختلف جیلوں سے رہائی پانے والے 28 پاکستان قیدی وطن واپس پہنچ گئے ،ان میں 19 قیدی سرکاری جبکہ 9 قیدی اپنے خرچ پروطن واپس لوٹے ہیں ۔سعودی عرب کی مختلف جیلوں سے رہائی پانے والے ان قیدیوں کا تعلق ملک کے مختلف شہروں  سے ہیں جو لاہور ایئرپورٹ پر پہنچنے کے بعد اپنے آبائی علاقوں کو روانہ ہوگئے ہیں


یہ بھی پڑھیں


رہا ہو کر وطن لوٹنے والے قیدیوں میں سے 7 کا تعلق مہمند ایجنسی سے ہے جن کے نام حیات اللہ ،زاہد خان ،رحیم اللہ ،عمران خان ،غلام خان ،محمد اسماعیل اور عبیداللہ ہیں ۔ سراج خان کا تعلق لوئر دیر ،محمد زبیر کا تعلق سیالکوٹ ،سوات سے رحمت شاہ اور شبیر شاہ ،کرم ایجنسی سے ارہب حسین ،صفدراللہ باچا ،نہار احمد ہنگو ،عزت خان مردان ،ایبٹ آباد کے آصف رضا ،پشاور سے سید محمد ،جبکہ غلام مرتضٰی کا تعلق لاڑکانہ سے ہے

رہائی پانے والے قیدیوں کے استقبال کیلئے اورسیز پاکستان فائونڈیشن کے ڈائریکٹر مصفطےٰ حیدر اور ریجنل ڈائریکٹر سیدہ صبا فاطمہ لاہور ایئرپورٹ پر موجود تھیں