دیگر پوسٹس

تازہ ترین

ماحولیاتی آلودگی کے برے اثرات!!

کدھر ہیں ماحولیاتی آلودگی اور انڈسٹریز اینڈ کنزیومرز کے محکمے جو یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں آبادی بیشک تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اپنا گھر ہر کسی کی خواہش اور ضرورت ہے رہائشی منصوبوں کی مخالفت نہیں کرتا اور ہائی رائزنگ عمارتوں کی تعمیر کو ضروری سمجھتا ہوں تاہم ہائی رائزنگ عمارتوں کی تعمیر اور اس سے جڑے ہوئے ضروری لوازمات اور معیار پر سمجھوتہ نہیں ہونا چاہئے اور باقاعدگی سے ان ہائی رائزنگ عمارتوں کی تعمیر کے وقت نگرانی کی جانی چاہئے

متبادل پر سوچیں!! سدھیر احمد آفریدی کی تحریر

یہ بلکل سچی بات ہے کہ کوئی بھی مشکل...

بیوٹی پارلر میں کام کرنیوالی لڑکی جس کی پرورش خالہ نے کی اور زندگی بھائی لے لی

ذرائع کے مطابق مقتولہ کو بچپن میں اس کی خالہ نے گود لے لیا تھا اور بالغ ہونے تک وہ اپنی خالہ کے پاس رہتی تھی پھر وہ ایک ڈاکٹر کے ساتھ بطور نرس کام کرتی رہی اس دوران وہ بیرون ملک چلی گئی جہاں سے دو ہفتے قبل واپس آئی اور اپنے منہ بولے ماموں غلام مصطفیٰ ولد روشن خان سکنہ سجی کوٹ روڈ قلندرآباد کی وساطت سے گوجری چوک میں فلیٹ کرائے پر لے کر رہنے لگی ۔

فاٹا انضمام کے معاملے پر مشران کی سپریم کورٹ سے مداخلت کی اپیل

ضلع خیبر سے جبران شنواری بالجبر انضمام اور پولیس نظام...

ریسکیو 1122 کے مزید 4 سو اہلکاروں‌کی تربیت مکمل ،خیبرپختونخواہ میں‌سٹیشنز کی تعداد 95

بیورورپورٹ

پشاور


ریسکیو1122 کے 400 کے قریب اہلکاروں کی پنجاب ریسکیو سروسز اکیڈمی میں تربیت مکمل ہوگئی،صوبائی وزیر برائے اطلاعات و نشریات اور معاون خصوصی برائے ہائیر ایجوکیشن خیبر پختونخوا سے اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی تھے،

پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے کہ میں حکومت خیبر پختونخواہ بالخصوص وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے حکومت پنجاب اور ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر رضوان نصیر کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے اہلکاروں کو پیشہ وارانہ اور بنیادی تربیت فراہم کی۔

واضح رپے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی ذاتی دلچسپی اور وسائل کی فراہمی کے باعث ریسکیو1122 کا دائرہ کار 10اضلاع سے بڑھا کر32 اضلاع تک پھیلا دیا ہے جبکہ ریسکیو1122 کے سٹیشنز کی تعداد 27 سے بڑھا کر 95 سٹیشنز کر دی گئی ہے


یہ بھی پڑھیں


ریسکیو1122 ڈسٹرکٹ شانگلہ، لکی مروت، کوہستان اور مالاکنڈ کے 400 کے قریب کے اہلکاروں کی پیشہ ورانہ تربیت مکمل ہوگئی، اب صوبہ خیبر پختونخوا میں ریسکیو1122 کے مزید سٹیشنز آپریشنل کردیے جائیں گے۔

کامران بنگش نے کہا کہ صوبائی حکومت نے عوام الناس کو ان کی دہلیز پر بہترین خدمات فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے ہیں جن میں سرفہرست ریسکیو 1122 کی سہولیات شامل ہیں جو شہری و بندوبستی علاقوں سے لے کر حالیہ ضم شدہ اضلاع اور دور دراز علاقوں تک خدمات کو یقینی بنا رہے ہیں۔

ریسکیو 1122نے اب تک 5لاکھ 29ہزار سے زائد ایمرجنسیز میں خدمات سرانجام دیں۔جن میں 1 لاکھ سے زائد ٹریفک حادثات ،3لاکھ سے زائد میڈیکل،18سے زائد آگ لگنے کے واقعات،1ہزار کے قریب عمارت منہدم ہونے، تقریباً 10ہزار جر ائم سے متعلق، 2 ہزار کے قریب پانی میں ڈو بنے اور دیگر واقعات کی کالز پر خدمات فرا ہم کی گئی ہیں۔

اس کے علاوہ 5لاکھ 50ہزار سے زائد افراد کو ریسکیو کیا گیا۔