دیگر پوسٹس

تازہ ترین

بیوٹی پارلر میں کام کرنیوالی لڑکی جس کی پرورش خالہ نے کی اور زندگی بھائی لے لی

ذرائع کے مطابق مقتولہ کو بچپن میں اس کی خالہ نے گود لے لیا تھا اور بالغ ہونے تک وہ اپنی خالہ کے پاس رہتی تھی پھر وہ ایک ڈاکٹر کے ساتھ بطور نرس کام کرتی رہی اس دوران وہ بیرون ملک چلی گئی جہاں سے دو ہفتے قبل واپس آئی اور اپنے منہ بولے ماموں غلام مصطفیٰ ولد روشن خان سکنہ سجی کوٹ روڈ قلندرآباد کی وساطت سے گوجری چوک میں فلیٹ کرائے پر لے کر رہنے لگی ۔

فاٹا انضمام کے معاملے پر مشران کی سپریم کورٹ سے مداخلت کی اپیل

ضلع خیبر سے جبران شنواری بالجبر انضمام اور پولیس نظام...

پرندے اور پودے ماحول کی روح جنہیں بچانا فرض ہے !!سدھیر احمد آفریدی کی تحریر

لہذا درختوں کو بھی اس صورت میں کاٹنا چاہئے جب وہ خشک ہوچکے ہوتے ہیں اور مزید پھل یا سایہ دینے کے قابل نہ ہو لیکن کسی سرسبز و شاداب اور گنے تناور درخت کو بلاضرورت کاٹنا بھی ظلم ہے اگر ضرورت کے لئے درخت کاٹنا ضروری ہو تو پھر یہ ذمہ داری بھی پوری کریں کہ دس متبادل پودے اور چھوٹے درخت کاشت کریں تاکہ پرندوں کی طرح پودوں اور درختوں کی نسل بھی آب و تاب کیساتھ برقرار رہے اور بڑھتی رہے جس سے ہمارا ماحول تر و تازہ اور خوشگوار رہتا ہے

طورخم بارڈر پر دو اداروں کے مابین تصادم کیوں ہوا ؟متضاد دعوے

طورخم(جبران شینواری ) طورخم نادرا ٹرمینل میدان جنگ بن گیا...

ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اردو بول سکتے ہیں

یوم نفاذ اردو
25 فروری کو وطن عزیز میں قومی زبان کے نفاذ کے لیئے سرگرم تنظیمات کی اپیل پر یوم نفاذ اردو منایا جا رہا ہے ۔ جس کا پس منظر یہ ہے کہ 1948ء میں 25فروری کو پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی نے پاکستان کی قومی و سرکاری زبان اردو قرار دی تھی ۔ یہ قرارداد دستور ساز اسمبلی میں منظوری کے بعد گزشتہ 73 سالوں سے عمل درآمد کی منتظر ہے ۔ بانیان پاکستان کے اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کی راہ میں صرف انگریزی مافیا مزاحم رہی ۔ اس قرارداد کی منظوری کے 52 سال بعد یہ معاملہ سپریم کورٹ میں گیا ۔ اگلے کئی برسوں تک اس مقدمے کی سماعت نہ کی گئی ۔ قبل اس کے کہ کیس کی فائل دیمک کی نذر ہو جاتی یہ مقدمہ سماعت کے لیئے منظور ہوا۔ قانونی پیچیدگیوں اور عدالتی کارروائی کے جاں توڑ مراحل سے گزر کر 8 ستمبر 2015 ء کو فیصلہ آیا اور یوں سپریم کورٹ نے بھی بانیان پاکستان کے فیصلے کو نافذ کرنے کا حکم دیا ۔ اب جب کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا چھٹا سال گزر رہا ہے مگر “ہنوز دلی دور است” کے مصداق اردو کے ساتھ بدستور سوتیلا پن برتا جا رہا ہے ۔
یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ آخر کیوں ؟
میری نظر میں اس کی چار بڑی وجوہات ہیں ۔
1۔ یہ کہ ہم نے اردو (جو ہماری تہذیبی روایات کی امین تھی ) کو لاوارث چھوڑ رکھا ہے
2۔ وطن عزیز کی مقتدر قوتوں نے انگریز اور انگریزی کی غلامی کو اپنی ترجیحات میں شامل کیئے رکھا
3۔ اردو کے خلاف مادری زبانوں کے بینر تلے بلاجواز پروپگنڈہ کر کے اردو کی تحقیر کی گئی
4۔ چوتھی اور آخری وجہ یہ تھی کہ اردو زبان میں بروقت وہ علمی سرمایہ منتقل نہ کیا جا سکا جو دیگر زبانوں میں موجود تھا ۔ تمام بڑے سائنسدانوں ۔ فلاسفہ ۔ ماہرین ۔ اور محققین کے اردو تراجم موجود ہوتے تو شائد سائنس اور ٹیکنالوجی کے نام پر انگریزی مسلط کرنے کی بھونڈی کوششوں کو ناکام بنایا جا سکتا تھا
ان تمام تر حالات میں اہل وطن کو چاہیئے کہ وہ ارباب اختیار سے پوچھیں کہ آج تک اردو کے ساتھ زیادتی کیوں روا رکھی گئی؟ کیا اب بھی وہ وقت نہیں آیا کہ ہم اپنی مشترکہ تہذیبی روایات کی امین اردو کے حق میں کھڑے ہوں؟
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب یک زبان ہو کر اس مسئلے پر آواز اٹھائیں اور اردو کے نفاذ میں اپنا کردار ادا کریں تا کہ وطن عزیز کے لیئے ترقی کی راہ ہموار ہو سکے
۔
سلیقے سے ہواؤں میں جو خوشبو گھول سکتے ہیں   ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اردو بول سکتےہیں



عتیق الرحمان شاہ ہزارہ ڈویژن کے صحافتی و ادبی حلقوں کا ایک معروف نام ہے جو اظہار راٸے کیلیے قلم پر مضبوط گرفت کی شناخت رکھتے ہیں۔اور تحریک نفاذ اردو پاکستان کے ہزارہ ڈویژن میں منتظم اعلی ہیں